ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / پہلوخان کیس: عدالت کو پولیس کی تفتیش میں سنگین خامیاں نظرآئیں

پہلوخان کیس: عدالت کو پولیس کی تفتیش میں سنگین خامیاں نظرآئیں

Sat, 17 Aug 2019 12:58:42    S.O. News Service

جئے پور،17؍اگست (ایس او نیوز؍ایجنسی)  راجستھان حکومت نے جہاں الور کی اے ڈی جے عدالت کی جانب سے پہلوخان کیس میں تمام چھ ملزمین کی برات کے فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیالنج کرنے کا فیصلہ کیاہے وہیں یہ بات سامنے ائی ہے کہ الور کی عدالت نے اپنے قطعی فیصلے میں یہ بات تحریر کی ہے کہ اس معاملے میں تحقیقات کے دوران پولیس کی سنگین خامیاں نظر آئی ہیں۔

ہریانہ کے نوہ‘میوات کے ساکن 55سالہ پہلوخان اپریل2017میں میویشی خریدنے کی غرض سے اپنے گاؤں سے نکلے تھے۔

مگر اچانک دہلی الور ہائی وئے پر گاؤ رکشہ کرنے والوں نے انہیں گھیرلیا اور لاٹھوں اور لوہے کی سلاخوں سے زدوکوب کیا۔ دوروز بعد وہ زخموں سے جانبرنہ ہوسکے تھے۔

سوشیل میڈیا پر اس افسوسناک واقعہ کا ویڈیو وائیرل ہونے کے بعد معاملہ قومی سطح کی سرخیوں میں آگئے اور بڑے پیمانے پر اس واقعہ کے خلاف احتجاج بھی کیاگیاتھا۔

الور کی عدالت نے اپنے قطعی فیصلے میں اس بات پر قائم رہی کہ یہ وضاحت نہیں ہوسکتی کہ کس نے ویڈیو نکالا تھا کیونکہ پولیس فون کو ضبط کرنے میں ناکام رہی جس سے واقعہ کی فلم بندی کی گئی تھی۔

مذکورہ عدالت کا کہنا ہے کہ یہاں تک جو تصویریں ثبوت کے طور پر پیش کی گئی تھیں اس سے بھی جرم ثابت نہیں ہوسکا اور لہذا مذکورہ اے ڈی جی عدالت نے اس کو بطور شواہد تسلیم نہیں کیا۔اس بات پر سوال اٹھایاگیا کہ جس طرح متوفی پہلوخان کو ملزمین کے نام معلوم تھے جبکہ وہ میوات سے ہیں او رملزمین کا تعلق الور سے تھا

عدالت نے اس بات کا بھی استفسار کیاتھا کہ کیوں دیگر ملزمین کے خلاف پہلی ایف ائی آر میں مقدمہ درج کیاگیاتھا۔یہ بتایاجارہا ہے کہ ملزمین کی شناخت نہیں ہوئی تھی اور پہلوخان کا بیان موت سے قبل درست انداز کے پیش نظر ریکارڈ نہیں کیاگیاتھا۔

درایں اثناء ایڈیشنل چیف سکریٹری راجیو سواروپ نے کہاکہ مذکورہ ریاست کی مذکورہ کانگریس حکومت جس کی قیادت چیف منسٹر اشوک گیہلوٹ کررہے ہیں نے فیصلہ کیاہے کہ پہلوخان کیس میں تمام چھ ملزمین کو بری کرنے کے متعلق فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیالنج کیاجائے گا۔

سواروپ نے کہاکہ ”حکومت نچلی عدالت کی جانب سے سنائے گئے فیصلے کا بغور جائزہ لے گی‘ ہم اس پر ہائی کورٹ میں اپیل کریں گے۔

ہم نے فیصلہ کیاہے کہ فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں فوری طور سے اپیل کریں گے“۔انہو ں نے یہ بھی کہاکہ پولیس نے ویڈیوفوٹیج کی فارنسک جانچ بھی نہیں کرائی تھی۔

فیصلے کے فوری بعد گیہلوٹ نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہاکہ ”ریاستی حکومت اگست2019کے پہے ہفتے میں ہجومی تشدد کے خلاف قانون لائی ہے۔

ہم مرحوم پہلوخان کی فیملی کو انصاف دلانے کے لئے سنجیدہ ہیں۔ اے ڈی جے کے احکامات کے خلاف ریاستی حکومت اپیل کرے گی“۔

اپوزیشن لیڈر گلاب چند کٹاریہ نے کہاکہ ”ہماری حکومت کرے گی کہ پیہلو خان کے خاطیوں کو سزا ملے‘ مذکورہ متاثرین نے بے قصور لوگوں کے خلاف شکایت درج کی تھی لہذایہ نتیجہ برآ مد ہوا ہے“


Share: